دنیا کے پہاڑ خطرناک دور میں داخل، وجہ کیا ہے؟

دنیا کے بلند اور برف پوش پہاڑ صدیوں سے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ خطرات کی علامت بھی رہے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت نے ان علاقوں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے خطرات کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بدلتے ہوئے پہاڑی ماحول میں دریاؤں کے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگ کس حد تک محفوظ ہیں۔

نیپال کے شمالی علاقے میں بدھ کے روز لینگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ سے برفانی تودے اور زمین کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک نیچے آ گرا۔ سیٹلائٹ جائزوں کے مطابق گلیشیئر کا تقریباً 2 ہزار فٹ چوڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آیا۔ اس کے ساتھ برف، پانی، چٹانیں، مٹی اور بہت زیادہ بڑے پتھر بھی ہزاروں فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے کی طرف بڑھے۔

اس واقعے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے پیدا ہونے والا زوردار جھٹکا ابتدائی طور پر زلزلہ سمجھا گیا۔

پہاڑ سے آنے والا یہ سیلابی ریلا تنگ گھاٹیوں سے گزرتا ہوا اپنے راستے میں آنے والے گھر، عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں، غرض راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے گیا۔ اس تباہی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے اس پانی اور ملبے کے انتہائی طاقتور ریلے کو بعض مقامات پر ’’مائع کنکریٹ‘‘ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ اس میں صرف پانی نہیں بلکہ برف، مٹی، چٹانیں اور بڑے پتھر بھی شامل تھے۔ ایک اندازے کے مطابق سیلابی لہر نے ابتدائی تقریباً 14 میل کا فاصلہ انتہائی تیزی سے طے کیا۔

موسمیاتی تبدیلی کا تعلق کتنا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مخصوص واقعے کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنے کے لیے ابھی مزید تحقیق درکار ہے۔ تاہم یہ ضرور واضح ہے کہ دنیا کے بلند پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھنے سے ایسے خطرات کے لیے حالات زیادہ سازگار ہو رہے ہیں۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلگری کے ماہر ارضیات ڈین شوگر کے مطابق، چاہے اس مخصوص واقعے کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے ثابت ہو یا نہ ہو، اس طرح کے واقعات وہی ہیں جن کی سائنس دان، ایک گرم ہوتی دنیا میں زیادہ تعداد میں وقوع پزیر ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔

ہمالیہ میں واقع نیپال اس خطرے کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ملک میں بلند پہاڑوں سے نکلنے والے کئی دریا تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں، جبکہ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب پہلے ہی عام قدرتی خطرات ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق حالیہ واقعہ ماضی قریب میں دیکھے گئے کئی واقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر تھا۔

اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ دنیا بھر کے گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ہے۔ گلیشیئر دراصل پہاڑوں پر موجود برف کے بڑے ذخیرے ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ پہاڑی گلیشیئر موجود ہیں اور سائنسی اندازوں کے مطابق موجودہ رجحانات برقرار رہے تو اس صدی کے اختتام تک ان میں سے تقریباً نصف ختم ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات بھی کیے جائیں۔

ہندوکش، ہمالیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں برف کے پگھلنے کی رفتار بھی تیز ہو چکی ہے۔ ان علاقوں میں گلیشیئرز سے برف کے ضائع ہونے کی شرح 2000 کے بعد دوگنی ہو چکی ہے۔ گلیشیئر سکڑنے کے ساتھ ساتھ بعض مقامات پر زیادہ غیر مستحکم بھی ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں برف یا چٹان کا اچانک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آ سکتا ہے۔

برف پگھلی تو پہاڑ بھی کمزور ہو سکتے ہیں

پہاڑوں کو مستحکم رکھنے میں برف کا ایک اور اہم کردار بھی ہے۔ پہاڑوں کی گہری تہوں میں موجود مستقل جمی ہوئی زمین، جسے ’پرما فراسٹ‘ کہا جاتا ہے، مٹی، چٹان اور برف کا مرکب ہوتی ہے۔ یہ منجمد تہیں پہاڑ کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے رکھتی ہیں۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو یہ برف پگھلنے لگتی ہے، زمین نرم ہوتی ہے اور پہاڑ کے بڑے حصے غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔

پگھلتی برف سے بننے والی جھیلیں بھی خطرہ

اس کے علاوہ پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے سامنے یا قریب بننے والی جھیلیں بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ایسی جھیلوں میں پانی مسلسل جمع ہوتا رہتا ہے اور اگر قدرتی بند ٹوٹ جائے تو پانی اچانک بڑے ریلے کی شکل میں نیچے کی طرف بہہ سکتا ہے۔ اس پانی کے ساتھ پہاڑی مٹی، برف اور چٹانیں بھی شامل ہو جائیں تو تباہی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ گزشتہ سال بھی نیپال کے اسی نوعیت کے علاقے میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شدید بارشیں بھی خطرہ بڑھا رہی ہیں

بارشوں کا بدلتا ہوا انداز بھی خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔ دنیا کے گرم ہونے کے ساتھ شدید بارشوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں بعض اوقات یہ بارشیں برف کے بجائے زیادہ پانی لے کر آتی ہیں۔ اس سے زمین کے کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور پہلے سے کمزور پہاڑی ڈھانچے مزید غیر مستحکم ہو سکتے ہیں۔

نیپال کے ماہر ارضیات بشال اپریتی کے مطابق بلند پہاڑوں پر موجود کئی گلیشیئر ایسے ہیں جو نیچے رہنے والی آبادیوں کے لیے مسلسل خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی اچانک ٹوٹ جائے تو اوپر سے آنے والی تباہی کو آسمانی سونامی سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف نیپال تک محدود نہیں بلکہ جہاں کہیں بلند پہاڑوں میں گلیشیئر اور مستقل جمی ہوئی زمین موجود ہے، وہاں ایسے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یورپ کے الپس سے لے کر جنوبی امریکا کے اینڈیز پہاڑی سلسلے تک مختلف علاقوں میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور پہاڑی ڈھانچوں کے غیر مستحکم ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

الاسکا اور سوئٹزرلینڈ میں بھی بڑے واقعات

امریکا کی ریاست الاسکا کے دارالحکومت جوناؤ کے قریب بھی ایک گلیشیئر سے جڑی جھیل بار بار اچانک بھر کر پھٹتی رہی ہے، جس کا پانی نیچے شہر کی جانب بڑھتا ہے اور گھروں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ گزشتہ سال سوئٹزرلینڈ کا گاؤں بلاٹن بھی ایک بڑے گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد برف اور چٹانوں کے ملبے تلے دب گیا تھا۔ ماہرین نے اس واقعے میں پہاڑ کے اندر موجود مستقل جمی ہوئی زمین کے پگھلنے کو ممکنہ عوامل میں شامل کیا تھا۔

بروقت وارننگ زندگی بچا سکتی ہے

ایسے حالات میں بروقت پیشگی اطلاع کا نظام انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نیپال میں موجود ابتدائی وارننگ سسٹم نے حالیہ واقعے میں ممکنہ طور پر بہت سی جانیں بچانے میں مدد دی۔ تاہم بلند پہاڑوں میں مسئلہ یہ ہے کہ گلیشیئر یا پہاڑ کے ٹوٹنے اور نیچے آبادی تک تباہ کن لہر پہنچنے کے درمیان بعض اوقات بہت کم وقت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کو بروقت خبردار کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

تین ہزار گلیشیئرز کی نگرانی بڑا چیلنج

نیپال میں تقریباً 3 ہزار گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہر گلیشیئر پر مستقل نظر رکھنا عملی طور پر مشکل اور مہنگا کام ہے۔ تاہم جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اس مسئلے کا حل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی سیٹلائٹ نگرانی کے نظام گلیشیئرز اور پہاڑی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا زیادہ تیزی سے پتا لگانے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا کے برف پوش پہاڑ اب بھی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کے لیے کشش کا مرکز ہیں اور ان کے دامن میں کروڑوں لوگ آباد ہیں۔ لیکن بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان پہاڑوں کے قدرتی نظام کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں کے نیچے آباد لوگوں کو مستقبل میں صرف روایتی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہی نہیں بلکہ گلیشیئر ٹوٹنے، جھیلیں پھٹنے اور برف و چٹان کے اچانک بڑے ریلوں جیسے پیچیدہ خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حالیہ نیپالی تباہی اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی ایک سنگین یاد دہانی ہے۔ سائنس دان ابھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس مخصوص واقعے میں مختلف عوامل نے کس حد تک کردار ادا کیا، لیکن مجموعی تصویر یہ بتاتی ہے کہ دنیا کے پہاڑی علاقوں میں خطرات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ ایسے میں بہتر نگرانی، مضبوط وارننگ سسٹم، محفوظ تعمیرات اور پہاڑی علاقوں میں آبادی کی منصوبہ بندی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔

Related posts